آج کا دن
09 September
2006
جنوبی غزہ میں کے علاقے خان یونس میں اسرائیلی حملے میں القدس بریگیڈ کے بائیس سالہ رکن الیاد ابو سعادہ نے جام شہادت نوش کیا
2006
خان یونس شہر میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی القسام بریگیڈ کے رکن نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کیا
2003
القسام بریگیڈ کے دو اراکین نے تل ابیب میں فدائی حملہ میں سولہ صہیونیوں کو جہنم واصل اور دسیوں کو زخمی کیا
2003
اسرائیلی فوج سے جھڑپ میں غرب اردن میں القسام بریگیڈ کے کمانڈر احمد عثمان بدر نے جام شہادت نوش کیا
2002
ارئیل شیرون نے اوسلو معاہدے کے بعض نکات کو مسترد کر دیا
2001
محمد صالح چشتی نے مقببوضہ فلسطین میں فدائی حملہ کر کے 5 یہودیوں کو ہلاک اور چالیس کو زخمی کیا
1976
عرب لیگ نے فلسطین کو اپنا رکن بنایا
... گزشتہ سے پیوستہ
اسرائیل کی القدس میں 1600 مکانات کی منظوری
پرنٹ دوست کو ارسال کریں
مذاکرات کے حامیوں کے منہ پرزور دار طمانچہ
اسرائیل کی القدس میں 1600 مکانات کی منظوری
[ 10/03/2010 - 07:02 AM ]
مرکز اطلاعات فلسطین

اسرائیل نے بیت المقدس میں 1600 نئے رہائشی فلیٹس کی تعمیر کی منظوری دی ہے جبکہ دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے اسے اسرائیل سے مذاکرات اور مفاہمت کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے بیت المقدس میں یہودی آباد کاری کو توسیع دینے کے لیے"رامات شلومو" نامی یہودی کالونی میں سولہ سو نئے مکانات کی تعمیر کے منصوبے پر دستخط کر دیے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی اخبار"یدیعوت احرونوت" کی رپورٹ کے مطابق نئی تعمیرات کی سکیم اسرائیل کے آباد کاری منصوبہ "القدس 2000" کا حصہ ہے، اس منصوبے کا مقصد بیت المقدس میں یہودی ابادی کی تعداد کو دور دراز علاقوں تک وسعت دینا ہے۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد فلسطینیوں کی تعداد کو کم  سے کم کر کے 12 فیصد تک لانا اور انہیں اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔

دوسری جانب حماس نے اسرائیل کی جانب سے بیت المقدس میں مزید یہودی آباد کاری کے منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فلسطینی اتھارٹی کے اسرائیل سے مذاکرات کا ثمر قرار دیا ہے۔

غزہ میں حماس کے ترجمان سامی ابوزھری فیصلے پر ردعمل میں فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل سے مذاکرات کا عمل فوری طور پر روک کر قوم کے بنیادی اصولوں کی جنگ لڑیں۔

ابو زھری نے کہا کہ اسرائیل سے مذاکرات کرنے کا مقصد صہیونی جنگی جرائم اور فلسطینیوں کے حقوق پر ڈاکے ڈالنے کے اقدامات کی پردہ پوشی کرنا اور انہیں قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

حماس کے ترجمان نے عرب ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ فلسطینی صدر محمود عباس کے مذاکرات کی حمایت کے بجائے فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کا احترام یقینی بنائیں۔ انہوں نےکہا کہ عرب ممالک کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ اسرائیل سے مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہو رہے ہیں اور ان کا تمام تر فائدہ اسرائیل کو پہنچ رہا ہے۔

أعلى الصفحة