آج کا دن
08 September
2006
اسرائیلی فوج نے 1948 کے مقبوضہ علاقوں میں قائم قیدیوں کی بہبود کےلیے کام کرنے والے ادارے کے دفاتر پر حملہ کر کے اس کی املاک کو قبضے میں لے لیا جبکہ اس پر دو سال کےلیے پابندی لگا دی
2003
اسرائیلی فوج نے فلسطینی چیف جسٹس قاضی تہسیر تمیمی کو مسجد اقصی کی جانب نماز کے لیے جاتے ہوئےگرفتار کر لیا
... گزشتہ سے پیوستہ
مقبوضہ بیت المقدس کے قدیمی شہر میں باب العامود کی دو برس کے لئے بندش کا اسرائیلی منصوبہ
پرنٹ دوست کو ارسال کریں
القدس کو یہودیانے اور تقسیم مسجد اقصی کا نکتہ آغاز
مقبوضہ بیت المقدس کے قدیمی شہر میں باب العامود کی دو برس کے لئے بندش کا اسرائیلی منصوبہ
[ 07/02/2010 - 08:34 PM ]
مقبوضہ بیت المقدس ۔ مرکز اطلاعات فلسطین

فلسطین میں اسلامی مسیحی کمیٹی برائے نصرت القدس و مقدسات اور قاضی القضاء فلسطین شیخ تیسیر التمیمی نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل القدس کے قدیم شہر کے سب سے بڑے دروازے  "باب العمود" کو شہر کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی آڑ میں دو سال کے لئے بند کرنا چاہتا ہے۔ باب العمود قدیمی القدس کی ایک اہم شناخت سمجھا جاتا ہے۔

اور اس کے ذیلی ادارے پرانے شہر کی شناخت مٹانے کے لئے متعدد منصوبوں پر عمل کر رہے ہیں۔ ان  منصوبوں کے تحت شہر کے دروازے، فصیل اور اس کی کالونیوں میں  کام جاری ہے۔ اس منصوبے کے لئے دو سو ملین ڈالرز کا بجٹ مخصوص کیا گیا ہے ۔ نیز شہر کے گرد یہودی بستیوں میں توسیع اس کے علاوہ ہے۔
شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ قدیمی القدس کو یہودیانے کی خاطر شہر سے زبردستی بیدخلی، مکانات کا انہدام چند ایسے اقدامات ہیں کہ جنہیں جلد از جلد مکمل کر کے شہر کو ایک مکمل یہودی رنگ دیا جا رہا ہے۔

 شیخ تمیمی نے خدشہ ظاہر کیا باب العامود کی بندش کا پلان دراصل تقسیم مسجد اقصی کا ابتدائی مرحلہ ہے کیونکہ اس سے پہلے یہودیوں نے بالکل انہی خطوط پر مغربی کنارے کے شہر الخیل میں واقع "مسجد ابراہیمی" کو تقسیم کیا۔ قدیمی القدس میں قبلہ اول یعنی مسجد اقصی کی تقسیم شہر کو یہودی بنانے کا نکتہ آغاز ہے، جس کے بعد آگے چل کر نعوذ باللہ اسے شہید کیا جائے تاکہ اس کی جگہ یہودیو ں کا نام نہاد ہیکل سلیمانی تعمیر کیا جا سکے۔

 

أعلى الصفحة