آج کا دن
08 September
2006
اسرائیلی فوج نے 1948 کے مقبوضہ علاقوں میں قائم قیدیوں کی بہبود کےلیے کام کرنے والے ادارے کے دفاتر پر حملہ کر کے اس کی املاک کو قبضے میں لے لیا جبکہ اس پر دو سال کےلیے پابندی لگا دی
2003
اسرائیلی فوج نے فلسطینی چیف جسٹس قاضی تہسیر تمیمی کو مسجد اقصی کی جانب نماز کے لیے جاتے ہوئےگرفتار کر لیا
... گزشتہ سے پیوستہ
الخلیل میں رواں سال 10 شہید،906 گرفتار، 424 زخمی، 475 دراندازیاں
پرنٹ دوست کو ارسال کریں
فوجی چوکیوں اور یہودی آباد کاروں کے حملوں میں اضافہ
الخلیل میں رواں سال 10 شہید،906 گرفتار، 424 زخمی، 475 دراندازیاں
[ 01/01/2010 - 05:29 AM ]
الخلیل۔۔۔ مرکز اطلاعات فلسطین

مغربی کنارے کا شہرالخلیل اسرائیلی مظالم کے خاص نشانے پر ہے، رواں سال اس شہر پر صہیونی فوج اور یہودی آباد کاروں کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ الخلیل میں سماجی بہبود کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے سال رواں میں الخلیل میں یہودی آباد کاروں کے حملوں اور فوجی کارروائیوں پر مبنی تفصیلات جاری کی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2009ء کے دوران الخلیل میں اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے دوران کم ازکم 10 شہری شہید ہوئے، 906 کو گرفتار کیا گیا جبکہ 424 افراد یہودی آباد کاروں اور فوج کی کارروائیوں میں زخمی ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق سال بھر میں روزمرہ کی بنیاد پر شہر میں اسرائیلی فوج کی دراندازیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران کم ازکم 475 مرتبہ شہر کے مختلف مقامات پر دراندازیوں کے دوران حملے کیے گئے۔ جبکہ یہودی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں کی  زمینوں پر قبضے اور انہیں ہتھیانے کا سلسلہ بھی بدستور جاری رہا۔

رپورٹ میں اسرائیل کی کارروائیوں کو جنگی جرائم سے تعبیر کرتے ہوئے کہا گیا کہ اسرائیل الخلیل شہر میں میں نہایت گھٹیا حرکات کا مرتکب ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال الخلیل میں جہاں ایک جانب قابض فوج شہریوں پر مسلسل حملوں کی مرتکب ہوتی رہی وہیں یہودی آباد کاروں کو بھی کھیل کھیلنےکا پورا موقع فراہم کیا گیا۔ چنانچہ رواں سال یہودی آباد کاروں کے حملوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

یہودی آباد کاروں کی جانب سے الخلیل میں مقدس مقام حرم ابراھیمی  کی کئی بار بے حرمتی کی گئی اور مسجد میں نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ فلسطینیوں کی املاک پر قبضہ ، مکانات اور کھیتوں پر یہودی آباد کاروں کے حملے بھی روز کا معمول رہے۔

شہر کی ناکہ بندی سخت کرنے کے لیے قابض صہیونی فوج نے کئی مقامات پر فوجی چوکیاں قائم کیں جن سے شہریوں کی نقل وحرکت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

شہر کی معاشی ناکہ بندی کے باعث 1242 دکانوں کے مالکان کو مجبورًا کاروبار بند کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ کھڑی فصلوں پر کیے حملوں کے دوران فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔

أعلى الصفحة