آج کا دن
09 September
2006
جنوبی غزہ میں کے علاقے خان یونس میں اسرائیلی حملے میں القدس بریگیڈ کے بائیس سالہ رکن الیاد ابو سعادہ نے جام شہادت نوش کیا
2006
خان یونس شہر میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی القسام بریگیڈ کے رکن نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کیا
2003
القسام بریگیڈ کے دو اراکین نے تل ابیب میں فدائی حملہ میں سولہ صہیونیوں کو جہنم واصل اور دسیوں کو زخمی کیا
2003
اسرائیلی فوج سے جھڑپ میں غرب اردن میں القسام بریگیڈ کے کمانڈر احمد عثمان بدر نے جام شہادت نوش کیا
2002
ارئیل شیرون نے اوسلو معاہدے کے بعض نکات کو مسترد کر دیا
2001
محمد صالح چشتی نے مقببوضہ فلسطین میں فدائی حملہ کر کے 5 یہودیوں کو ہلاک اور چالیس کو زخمی کیا
1976
عرب لیگ نے فلسطین کو اپنا رکن بنایا
... گزشتہ سے پیوستہ
ازھر کے علماء کی جانب سے مسلمان حکمرانوں کی مذمت
پرنٹ دوست کو ارسال کریں
اسلامی مقدسات کے خلاف اسرائیلی جارحیت پر خاموشی
ازھر کے علماء کی جانب سے مسلمان حکمرانوں کی مذمت
[ 09/03/2010 - 10:59 AM ]
قاہرہ ۔۔۔ مرکز اطلاعات فلسطین

جامعہ ازھر کے علماء نے مقبوضہ فلسطین میں اسلامی مقدسات پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف خاموشی اختیار کرنے پر ملسلمان حکمرانوں کی مذمت کی ہے۔

مجمع البحوث کے رکن اور الجمعیہ الشرعیہ کے چیئرمین ڈاکٹر محمد مختار مہدی نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بیان میں کہا کہ مسجد اقصیٰ کو جو خطرات لاحق ہیں اس حوالے سے مسلمان حکمرانوں کا مؤقف مضبوط نہیں ہیں۔ اسرائیل نے مسجد ابراہیمی اور بلال بن رباح مسجد کو یہودی ورثہ قرار دے دیا، لیکن مسلمانوں میں کوئی ہلچل پیدا نہیں ہوئی، ان کی کمزوری پہلے سے زیادہ واضح ہوگئی ہے۔

محمد مختار مہدی نے مصر کے سرکاری مذہبی ادارے ''الازھر'' کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ الازھر ایک دینی ادارہ ہے لیکن کسی معاملے میں جب حکومت متحرک نہیں ہوتی وہ بھی خاموش رہتا ہے۔

محمد مختار مہدی نے کہا ''جب فلسطین کو لاحق خطرات کا احساس ختم ہوگیا تو گویا ہم نے فلسطین کو کھودیا۔ جب مسلمانوں کے اندر قوم پرستی آگئی تو ہم فلسطین سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔''

دوسری جانب جامعہ الازھر کی تدریسی کمیٹی نے مسجد اقصیٰ کے نمازیوں پر اسرائیلی جارحیت اور مسجد ابراہیمی اور بلال بن رباح مسجد کو یہودی قرار دیے جانے کے اسرائیلی اعلان پر خاموشی اختیار کرنے پر عرب ممالک کی مذمت کی۔ جامعہ الازھر کی تدریسی کمیٹی کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی مقدسات کے خلاف اسرائیلی جارحیت پر خاموشی نے دشمن کے مقابلے میں عرب ممالک کی کمزوری کو عیاں کردیا ہے۔

بیان کے مطابق فلسطینی جماعتوں سے جنگ بندی اور اسرائیل سے مذاکرات کرنے کا مطالبہ واضح کرتا ہے کہ صہیونی جرائم کو روکنے کے لیے عرب ممالک مضبوط مؤقف نہیں رکھتے۔

بیان میں مصری حکومت سے قاہرہ میں اسرائیلی سفارت خانے کو بند کرنے، اسرائیل کو گیس کی برآمد روکنے اور مسجد اقصیٰ کی نصرت کے لیے ہنگامی عرب سربراہی کانفرنس کے انعقاد کا مطالبہ کیا گیا۔

 

أعلى الصفحة