|
عبدالرشید ترابی (امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر)
گزشتہ دنوں فلسطین کے حوالے سے دو بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کاموقع ملا جو بیروت میں منعقد ہوئیں- ان میں سے ایک القدس انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام تھی جو اس ادارے کے قیام کے بعد بلاناغہ ہر سال منعقد ہوتی ہے جس میں ادارے کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے تنظیمی اجلاس کے علاوہ ایک بین الااقومی کانفرنس کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے- جس میں عالم عرب کے علاوہ دنیا کے مختلف حصوں میں فلسطین کاز کے حوالے سے کام کرنے والے اسلامی تحریکوں کے قائدین اور دیگراہم افراد شرکت کرتے ہیں- اس کے سربراہ عالم عرب بلکہ عالم اسلام کے مشہور سکالر شیخ ڈاکٹر یوسف القرضاوی ہیں- جو عالم عرب میں ایک ایسی ہر دلعزیز شخصیت ہیں جن کا احترام عوامی اور اسلامی حلقوں کے علاوہ حکومتی سطح پر بھی یکساں طور پر کیا جاتاہے- انہوں نے دیگر عرب دانشوروں کے تعاون سے ایک ایساادارہ بنادیا ہے جس میں عالم عرب کے اسلامی حلقے اور قوم پرست حلقے، شیعہ سنی اور عیسائی جو بھی فلسطین کاز سے دلچسپی رکھتے ہیں سب کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے- کانفرنس میں اڑھائی سو سے زائد مندوبین شریک تھے جن میں متذکرہ شرکاء کے علاوہ بعض ممالک سے ممبران پارلیمنٹ اور حکومتی نمائندے بھی شامل تھے- کشمیر سے میرے ساتھ راجہ خالد محمود خان شریک تھے جو دوبئی سے شریک سفرہوئے- پاکستان کی نمائندگی جماعت اسلامی پاکستان کے امور خارجہ کے ڈائریکٹر برادر عبدالغفار عزیر نے کی جبکہ پاک فلسطین یکجہتی کونسل کے چیئرمین مظفر احمد ہاشمی (سابق ایم این اے ) نے بھی شرکت کی-
کانفرنس کا اجلاس تین روز تک جاری رہا- اس موقعے پر فلسطین کے اندر سے آنے والے اہم فلسطینی رہنماؤں کی زبانی اسرائیل کے مظالم اور عزائم کے چشم کشا واقعات سے آگاہی کا موقع ملا- بالخصوص غزہ میں جو قیامت صغری برپا ہے اور پندرہ لاکھ فلسطینیوں کی ناکہ بندی کرکے جس طرح انہیں دانے دانے کا محتاج بنا کر صفحھ ہستی سے مٹانے یا آزدای کی تمنا سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنے کی کوشش ہو رہی ہے وہ حد درجہ تشویش ناک ہے- ایک طرف توانتہا پسند یہودی صہیونی حکومت کی سرپرستی میں مسجد اقصی کو منہدم کرنے کے لئے زیر زمین سرنگیں بنا رہے ہیں اور موقع کی طاق میں ہیں کہ قبلہ اول کو گرا کر یہاں ہیکل سلیمانی تعمیر کریں- ان کی اس سازش کا توڑکرنے کے لیے فلسطین کے عوام پر عزم ہیں اور ہر قربانی دینے کا جذبہ رکھتے ہیں- اس کے لیے انہوں نے چوبیس گھنٹے کثیر تعداد میں مسجد کو آباد رکھنے کا فیصلہ کیاہے- اس سعادت کے حصول کے لیے دور دراز مقامات سے فلسطینی گروہ درگروہ رواں دواں رہتے ہیں البتہ صہیونی حکومت پوری کوشش کرتی ہے کہ نوجوان مسجد میں نہ داخل ہونے پائیں یوں مسلسل آنکھ مچولی کا عمل چلتا رہتاہے-
اہل فلسطین کا المیہ یہ ہے کہ فلسطینی بے چار گزشتہ پون صدی سے اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کررہے ہیں- شہداء کے علاوہ لاکھوں کی تعداد میں انہیں اپنے گھروں سے بے دخل کردیاگیاہے- جو قریبی عرب ممالک کے علاوہ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں - ان کے حق میں سلامتی کونسل کی قرار دادیں بھی موجود ہیں لیکن اسرائیل امریکہ کی پشتی بانی میں اسے پرکاہ کے برابر اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہے- سردجنگ کے دوران پی ایل او یاسرعرفات کی سربراہی میں تحریک آزادی کی نمائندہ تنظیم تھی جسے سوویت یونین اور اس کے حلیفوں کا تعاون حاصل تھا لیکن سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یاسرعرفات کو زیر دام لا کر اوسلو معاہدہ کردیاگیا جس میں مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر محیط ایک ایسی فلسطینی اتھارٹی کا کھلونا تھما یا گیا، جہاں صدر اور پارلیمنٹ کو تو فلسطینی منتخب کریں گے لیکن اس کا دفاع اور کرنسی اسرائیل کی ہوگی حتی کہ کسٹم اور محصولات کے اختیارات بھی اسرائیل ہی کے پاس ہوں گے - اس بات کا بھی اہتمام کیاگیاکہ پسپائی کو شکست نہیں فتح بنا کر پیش کیاجائے-
امریکا کے علاوہ عالم عرب کے حکمرانوں نے بھی اس حل کو پذیرائی بخشی تاکہ یہ مسئلہ جوان کے لیے بھی وبال جان بن چکا تھا تحلیل ہو جائے اور ان کی سردردی ختم ہو لیکن فلسطینیوں نے اس حل کو مسترد کردیا اور راکھ کے اس ڈھیر سے حماس کی شکل میں ایک نئی انتفاضہ کی لہر ابھری جو فتح کے قوم پرستانہ سیکولر نظریات کے برعکس اسلام کو اپنا نظام حیات قرار دیتی ہے- اس کے بانی شیخ احمد یاسین کو ہزراوں ساتھیوں سمیت کو طویل عرصہ جیل میں رکھاگیا بعد میں انہیں بے دردی سے شہید بھی کر دیا گیا- ان کے بعد اس کے سربراہ ڈاکٹر عبدالعزیز رنتیسی کو بھی شہید کر دیا گیا - لیکن قیادت سے محرومی کے باوجود انتفاضہ کی یہ لہرآگے ہی بڑھتی رہی جو سید حسن البناء شہید اور سید قطب شہید کے انکار کی بنیاد پر فلسطین کی آزادی اور امت کی سربلندی دیکھنا چاہتی ہے-
(بشکریہ روزنامہ اوصاف)
|