آج کا دن
08 September
2006
اسرائیلی فوج نے 1948 کے مقبوضہ علاقوں میں قائم قیدیوں کی بہبود کےلیے کام کرنے والے ادارے کے دفاتر پر حملہ کر کے اس کی املاک کو قبضے میں لے لیا جبکہ اس پر دو سال کےلیے پابندی لگا دی
2003
اسرائیلی فوج نے فلسطینی چیف جسٹس قاضی تہسیر تمیمی کو مسجد اقصی کی جانب نماز کے لیے جاتے ہوئےگرفتار کر لیا
... گزشتہ سے پیوستہ
انتخابات کے انعقاد سے متعلق صدارتی فرمان پر حماس کا ردعمل
پرنٹ دوست کو ارسال کریں
قومی اتفاق رائے کے بغیر
انتخابات کے انعقاد سے متعلق صدارتی فرمان پر حماس کا ردعمل
[ 24/10/2009 - 06:33 AM ]
غزہ(مرکز اطلاعات فلسطین)

فلسطین میں جنوری 2009 ء سے غیرآئینی طور پرمسلط صدر محمود عباس کی طرف سے پارلیمانی انتخابات کے اعلان  کو حماس قومی مفاہمتی کوششوں پرکاری ضرب قرار دیتی ہے۔
 
حماس کے نزدیک ایک غیر آئینی صدر کو قومی مفادات کے خلاف اقدامات اور فرامین جارنے کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ اس سلسلے میں محمود عباس کے صدارتی فرمان پر حماس کا موقف حسب ذیل ہے:

۱۔   حماس محمود عباس کی جانب سے انتخابات کا شیڈول جاری کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتی ہے کیونکہ مفاہمت سے قبل انتخابات کے اعلان سے سیاسی طور پر انارکی میں اضافہ ہوگا جس کی ذمہ داری محمود عباس اور ان کے گروہ پرعائد یوگی۔

۲۔    حماس ایک جمہوری جماعت ہے، اس نے 2006 ء کے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیا اور اس کے نتائج کو تسلیم کیا ہے۔ حماس کی خواہش ہے کہ فلسطین میں انتخابات مفاہمت کا نتیجہ ہونے چائیں، اس کے علاوہ اور کوئی راستہ انتخابات کا قبول نہیں۔

۳۔  حماس کے نزدیک قومی اتفاق رائے کے بغیر انتخابی شیڈول کا اعلان اسرائیل اور امریکا کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔ فلسطینی صدر کی جانب سے یک طرفہ طور پر انتخابات کے اعلان سے ان کی سیاسی شعور کی عدم پختگی کا ثبوت ملتا ہے۔

۴۔  محمود عباس کی جانب سے یک طرفہ طورپر انتخابی شیڈول کے اجرا سے ملک میں سیاسی اور جغرافیائی سطح پر جو منفی اثرات مرتب ہوں گے فلسطینی صدر اور ان کا گروہ اس کا ذمہ دار ہوگا۔

۵۔  باہمی اتفاق رائے کے بغیر انتخابات کا اعلان محمود عباس کے دھاندلی کے منصوبے کا آغازہے۔ محمود عباس  صدارتی فرمان کے ذریعے انتخابات میں من پسند نتائج کے حصول کے لیے قوم کی اجتماعی آواز کو نظرانداز کر رہے ہیں۔

 

أعلى الصفحة